Épisodes

  • حضورِ رسالت مآبؐ میں! از علامہ اقبال
    Jan 21 2026

    علامہ اقبال کی نظم “حضورِ رسالت مآبؐ میں” طرابلس کی جنگ کے پس منظر میں لکھی گئی وہ صدائے دل ہے جس میں امتِ مسلمہ کے زخم، بے بسی اور عزتِ نفس کی ٹوٹی ہوئی حالت صاف جھلکتی ہے۔ اقبالؒ اس نظم میں اس سوز کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہیں کہ ایک طرف مسلمان دشمن کے ظلم و ستم میں پس رہے ہیں اور دوسری طرف امت کے دلوں سے ایمان کی حرارت اور عمل کی قوت کمزور ہو چکی ہے۔ نظم کا مرکزی احساس یہی ہے کہ طرابلس کے مجاہدین کا خون ہمیں جگانے آیا ہے، اور اب امت کو پھر اسی عشقِ رسول ﷺ، جرأتِ ایمانی اور روحِ محمدیؐ کی طرف لوٹنا ہوگا جو کبھی مسلمانوں کی پہچان، قوت اور قیادت تھی۔

    Afficher plus Afficher moins
    19 min
  • نصیحت از علامہ اقبال | اقبال کی خود کلامی
    Jul 11 2025

    علامہ اقبال کی نظم "نصیحت" ایک طنزیہ مگر فکری آئینہ ہے جو موجودہ دور کی قیادت، مذہب، صحافت اور ادبی دنیا کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کرتی ہے۔ اس نظم میں اقبال نہایت فصاحت سے ان افراد پر تنقید کرتے ہیں جو دین، دانش اور قیادت کے دعوے تو کرتے ہیں، مگر اندر سے اقتدار، شہرت اور مفاد پرستی کے اسیر ہوتے ہیں۔ اقبال ہر شعر میں معاشرتی، فکری اور روحانی زوال کی کسی نہ کسی صورت کو نمایاں کرتے ہیں — کبھی میڈیا کی غلامی، کبھی رسمی عبادت، کبھی دین کے پردے میں دنیا کمانے کا فریب، اور کبھی علم و ادب کو سچ کے بجائے مفاد کے لیے استعمال کرنا۔ نظم کا اختتامی فارسی شعر پوری نظم کو ایک روحانی اونچائی پر پہنچاتا ہے: "اگرچہ موت مقدر ہے، مگر جب تک زندہ ہو، اپنی آواز بلند کرو۔" گویا "نصیحت" صرف تنقید نہیں، بلکہ دعوتِ بیداری اور تجدیدِ کردار ہے۔

    Afficher plus Afficher moins
    31 min
  • گدائی از علامہ اقبال | اصل فقیر کون ؟
    Jun 30 2025

    علامہ اقبال کی نظم "گدائی" ایک انقلابی اور فکری نظم ہے جو ظاہری حکومت، بادشاہی اور امارت کے پسِ پردہ چھپی ہوئی حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے۔ اس نظم میں اقبال نے حکمرانوں کی شان و شوکت کو ایک فریب قرار دیا ہے، جو درحقیقت عوام کی محنت، قربانی اور خون سے تعمیر ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو شخص دوسروں پر انحصار کرتا ہے، چاہے وہ صدقہ مانگے یا ٹیکس، وہ دراصل ایک فقیر ہے — اور یہی حال حکمرانوں کا بھی ہے۔ اقبال کی یہ نظم صرف سماجی تنقید نہیں بلکہ ایک دعوتِ فکر ہے کہ عزت، اختیار اور عظمت کا اصل معیار خودی، خودداری اور خدمتِ خلق ہے، نہ کہ ظاہری تاج و تخت۔

    Afficher plus Afficher moins
    17 min
  • مارچ ١٩٠٧ از علامہ اقبال | علامہ اقبال کا مغرب کو پیغام
    Jun 20 2025

    نظم "مارچ 1907" علامہ اقبال کی ایک انقلابی اور بصیرت افروز نظم ہے جس میں انہوں نے مغربی استعمار، قوم پرستی، اور مادہ پرستی کے خلاف ایک گہرا فکری ردعمل پیش کیا ہے۔ اس نظم میں اقبال نے پیش گوئی کی کہ یورپ کی ظاہری چمک دمک، ترقی اور طاقت ایک دن خاک میں مل جائے گی، اور دنیا میں ایک روحانی انقلاب اُبھرے گا۔ وہ اس نظم میں "دیدارِ یار" کو عام ہونے کی نوید دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ وہ راز جو اب تک خاموشی کے پردے میں تھا، اب ظاہر ہو جائے گا۔ اقبال نے اس نظم کے ذریعے مسلمانوں کو ان کی اصل پہچان، روحانی طاقت اور عالمی کردار کی یاد دہانی کرائی ہے۔ "مارچ 1907" صرف ایک نظم نہیں، بلکہ ایک بیداری کا پیغام ہے جو آج بھی اپنی معنویت رکھتا ہے۔

    Afficher plus Afficher moins
    38 min
  • انڈین اسکالر کی گم شدہ تحریر | واحد المعانی الکتاب
    Jun 18 2025

    علامہ عنایت اللہ خان مشرقی کی ایک شاہکار کتاب ہے جو ان کے گہرے فلسفیانہ اور سائنسی خیالات کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ کتاب بنیادی طور پر مذہب، سائنس، اور فلسفے کے باہمی تعلق پر ایک منفرد انداز میں روشنی ڈالتی ہے۔ علامہ مشرقی، جو خود ایک نامور ریاضی دان اور سائنسی مفکر تھے، نے اس کتاب میں عقلی دلائل اور سائنسی اندازِ فکر کو قرآن کی آیات کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا ہے

    Afficher plus Afficher moins
    24 min
  • انڈین اسکالر کی گم شدہ تحریر | فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
    Jun 8 2025

    علامہ عنایت اللہ خان مشرقی کی ایک شاہکار کتاب ہے جو ان کے گہرے فلسفیانہ اور سائنسی خیالات کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ کتاب بنیادی طور پر مذہب، سائنس، اور فلسفے کے باہمی تعلق پر ایک منفرد انداز میں روشنی ڈالتی ہے۔ علامہ مشرقی، جو خود ایک نامور ریاضی دان اور سائنسی مفکر تھے، نے اس کتاب میں عقلی دلائل اور سائنسی اندازِ فکر کو قرآن کی آیات کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا ہے

    Afficher plus Afficher moins
    17 min
  • وطنیّت از علامہ اقبال | سب سے تازہ شرک | वातनिय्यत अल्लामा इक़बाल। सब से बारे शिर्क
    Jun 1 2025

    نظم "وطنیّت" علامہ اقبال کی فکر انگیز اور جرات مندانہ نظم ہے جس میں انہوں نے جدید دور کے سب سے بڑے فتنے یعنی قوم پرستی اور وطن پرستی پر شدید تنقید کی ہے۔ اقبال کے نزدیک وطن سے فطری محبت جائز ہے، مگر جب یہ محبت انسان کو دین، اخوتِ اسلامی، اور وحدتِ اُمت سے دور کر دے تو یہ ایک نیا "بُت" بن جاتی ہے۔ اس نظم میں اقبال نے بتایا کہ جدید تہذیب نے وطن کو معبود کا درجہ دے دیا ہے، اور یہی نظریہ امتِ مسلمہ کی وحدت کو پارہ پارہ کر رہا ہے۔ وہ وطن پرستی کو مغربی آزر کا تراشا ہوا بُت قرار دیتے ہیں جو دینِ محمدی ﷺ کے نظام کو مٹا رہا ہے۔ نظم کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ مسلمان کی اصل شناخت اسلام ہے، اور اس کا اصل وطن وہ جگہ ہے جہاں اللہ کا دین نافذ ہو۔ اقبال ہمیں دعوت دیتے ہیں کہ ہم اس فکری بُت کو توڑیں اور اپنی شناخت کو مصطفوی بنائیں، نہ کہ محض جغرافیائی سرحدوں کا اسیر۔

    Afficher plus Afficher moins
    42 min
  • انڈین اسکالر کی گم شدہ تحریر | سب سے بڑی نعمت : الکتاب
    May 29 2025

    علامہ عنایت اللہ خان مشرقی کی ایک شاہکار کتاب ہے جو ان کے گہرے فلسفیانہ اور سائنسی خیالات کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ کتاب بنیادی طور پر مذہب، سائنس، اور فلسفے کے باہمی تعلق پر ایک منفرد انداز میں روشنی ڈالتی ہے۔ علامہ مشرقی، جو خود ایک نامور ریاضی دان اور سائنسی مفکر تھے، نے اس کتاب میں عقلی دلائل اور سائنسی اندازِ فکر کو قرآن کی آیات کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا ہے

    Afficher plus Afficher moins
    16 min