Couverture de Just Talks's Podcast

Just Talks's Podcast

Just Talks's Podcast

De : Just Talks
Écouter gratuitement

I am a person whose heart still beats to the rhythm of his childhood, where memories of simpler days are forever alive. Every story I tell is a piece of my past—a glimpse into the moments that shaped me, from carefree adventures in the sun-drenched fields to the quiet reflections beneath a starlit sky. I love sharing these true stories with others, not just as tales of nostalgia but as lessons wrapped in the warmth of lived experience. Through my words, I invite others to see the world through the eyes of my younger self, hoping to rekindle the sense of wonder and innocence that we often lose along the way. For me, sharing these memories isn’t just about remembering; it’s about keeping the spirit of those days alive in the hearts of those who listen.

© 2026 Just Talks's Podcast
Philosophie Sciences sociales Spiritualité
Épisodes
  • انڈین اسکالر کی گم شدہ تحریر (علم کی معراج)
    15 min
  • حضورِ رسالت مآبؐ میں! از علامہ اقبال
    Jan 21 2026

    علامہ اقبال کی نظم “حضورِ رسالت مآبؐ میں” طرابلس کی جنگ کے پس منظر میں لکھی گئی وہ صدائے دل ہے جس میں امتِ مسلمہ کے زخم، بے بسی اور عزتِ نفس کی ٹوٹی ہوئی حالت صاف جھلکتی ہے۔ اقبالؒ اس نظم میں اس سوز کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہیں کہ ایک طرف مسلمان دشمن کے ظلم و ستم میں پس رہے ہیں اور دوسری طرف امت کے دلوں سے ایمان کی حرارت اور عمل کی قوت کمزور ہو چکی ہے۔ نظم کا مرکزی احساس یہی ہے کہ طرابلس کے مجاہدین کا خون ہمیں جگانے آیا ہے، اور اب امت کو پھر اسی عشقِ رسول ﷺ، جرأتِ ایمانی اور روحِ محمدیؐ کی طرف لوٹنا ہوگا جو کبھی مسلمانوں کی پہچان، قوت اور قیادت تھی۔

    Afficher plus Afficher moins
    19 min
  • نصیحت از علامہ اقبال | اقبال کی خود کلامی
    Jul 11 2025

    علامہ اقبال کی نظم "نصیحت" ایک طنزیہ مگر فکری آئینہ ہے جو موجودہ دور کی قیادت، مذہب، صحافت اور ادبی دنیا کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کرتی ہے۔ اس نظم میں اقبال نہایت فصاحت سے ان افراد پر تنقید کرتے ہیں جو دین، دانش اور قیادت کے دعوے تو کرتے ہیں، مگر اندر سے اقتدار، شہرت اور مفاد پرستی کے اسیر ہوتے ہیں۔ اقبال ہر شعر میں معاشرتی، فکری اور روحانی زوال کی کسی نہ کسی صورت کو نمایاں کرتے ہیں — کبھی میڈیا کی غلامی، کبھی رسمی عبادت، کبھی دین کے پردے میں دنیا کمانے کا فریب، اور کبھی علم و ادب کو سچ کے بجائے مفاد کے لیے استعمال کرنا۔ نظم کا اختتامی فارسی شعر پوری نظم کو ایک روحانی اونچائی پر پہنچاتا ہے: "اگرچہ موت مقدر ہے، مگر جب تک زندہ ہو، اپنی آواز بلند کرو۔" گویا "نصیحت" صرف تنقید نہیں، بلکہ دعوتِ بیداری اور تجدیدِ کردار ہے۔

    Afficher plus Afficher moins
    31 min
adbl_web_anon_alc_button_suppression_t1
Aucun commentaire pour le moment